جرمنی کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی کی حمایت کرتا ہے ۔ مسٹر اندریاس
جرمنی کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی کی حمایت کرتا ہے ۔ مسٹر اندریاس جرمن فارن آفس ڈیسک براے افغانستان و پاکستان
جرمنی کے پاس اپنے ملک کی تقسیم اور ایسی جنگوں کو پر امن ذریعے سے حل کرنے کا تجربہ موجود ہے جو مسلئہ کشمیر کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ سردار شوکت علی کشمیری
متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے اعلٰی سطحی وفد نے جرمنی کے دارلحکومت برلن میں جرمن وزارتِ خارجہ کے افغانستان و پاکستان کے ڈیسک کے انچارج مسٹر اندریاس سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وفد کی قیادت پارٹی کے جلاوطن چیرمین سردار شوکت علی کشمیری کر رہے تھے جبکہ ناصر عزیز، جمیل مقصود اور عثمان کیانی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ مسٹر اندرپاس نے وفد کو اپنے دفتر میں خوش آمدید کہا۔ سردار شوکت کشمیری نے مسٹر اندریاس کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے خیالات کے تبادلے کا موقع دیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سردار شوکت علی کشمیری نے زلزلے کے دوران حکومتِ جرمنی کی کاوشوں پر ان کی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور تعمیرنوکے سلسلے میں جرمنی کی ٰغیرسرکاری تنظیموں کی دلچسپی اور جرمن بینکوں کی طرف سے مختلف منصوبوں کیلئے عطیات دینے پر کشمیری عوام کی طرف سے بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اور بالخصوص یورپی اداروں نے تباہ حال ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر کیلئے جس ہمدردی اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مسٹر اندریاس نے کہا کہ وہ کچھ عرصہ تک اسلام آباد میں تعینات رہے اس دوران انہوں نے متاثرہ علاقوں کے خود دورے بھی کیے ہیں۔ انہیں متاثرین کے ساتھ ذاتی دلچسپی اور ہمدردی تھی کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس ناگیانی آفت کی ذد میں آئی اور ان کے گھر بار تباہ ہو گئے۔
ہندوستان اور پاکستان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے جرمن دفترخارجہ کے اعلٰی اہلکار نے پوچھاکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت اور سرحدوں کو نرم کرنے جیسے اقدامات کے بارے میں متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کا موقف کیا ہے۔ جس کے جواب میں سردار شوکت علی کشمیری نے کہا کہ ہماری پارٹی نے نوے کی دہائی میں اُس وقت امن اور استحکام کیلئے جدوجہد کی جب ہمارا خطہ دہشتگردانہ نعروں کی ذد میں تھا ہم نے تب آگے بڑھکر حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ مذہب کا بطور ہتھیار اور دہشتگردی کو خارجہ پایسی کے طورپر استعمال کرنے کے سنگین نتائج پیدا ہوں گے اور پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان اور ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا ہوں گے اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور دوسرے ممالک میں تزوپراتی گہرائی کے سرد جنگ کے عہد کے تصورات کو بدلنا ہو گا۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان نے ہمارے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی بجائے ہماری آواز کو کچلنے کیلئے اپنی انتظامی طاقت اور خفیہ اداروں کے ذریعے ناصرف مجھے دو بار غیر قانونی طور پر اغوا کر لیا بلکہ ہماری پارٹی کے سرگرم کارکنوں کو اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہراساں کر کے پارٹی چھوڑنے پر دبائو بڑھاتے رہے۔
ہمارے کئی کارکنوں کو سازش کے ذریعے قتل کروایا گیا اور ہمارے سینکڑوں ساتھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ا س لئے ہم نے یورپی پارلیمنٹ میں مختلف سیمینار اور کانفرس اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سالانہ اجلاسوں میں مسلسل خطے میں سیاسی، معاشی ستحکام اور امن کے قیام کیلئے جدوجہد کی ہے۔ مسٹر اندریاس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سردار شوکت علی کشمیری نے کہا کہ پاکستان کا سب کسے بڑا مسلئہ یہ ہے کہ وہاں آئین و قانون کی کوئی حکمرانی نہیں ہے۔ لوگوں کی اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے لوگ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں اور پاکستان میں سول حکومت کی کوئی گرفت نہیں۔ فوج اور خفیہ ادارے اور بلخصوص آئی ایس آئی سیاسی کارکنوں کے اغوائ اور قتل میں ملوث ہیں جس کی خوفناک مثال بلوچستان ہے پاکستان کے اندر اور باہر یعنی نام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جو سیاسی کارکن ان اداروں کی غیر قانونی سرگرمیوں پر احتجاج کرتے ہیں انھیں نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے ان آوازوں کو دبا دیا جاتا ہے۔
پاکستان کی انتظامیہ میں میڈیا آزاد نہیں ہے اسلئے کئی خبریں رپورٹ نہیں ہوتی جس طرح پاکستانی میڈیا ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں مہم چلاتا ہے وہ ہمارے علاقوں کے بارے میں خاموش رہتا ہے سردار شوکت علی کشمیری نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کشمیر کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات اور دیگر اہم مواقعوں پر کشمیریوں کی بھی شامل کریں یا عالمی برادری کشمیر کے تمام حصوں کی قیادت کو مل بیٹھ کر ریاست کے مستقبل کے حوالے سے کسی متفقہ فیصلے پر پہنچنے کیلئے ان کی مدد کرئے جس طرح انہوں نے افغانستان میں ایک متفقہ آئینی حکومت تشکیل دینے میں افغان گروپوں کی مدد کی۔ ریاستی وسائل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سردار شوکت علی کشمیری نے کہا کہ پاکستان ہمارے قدرتی اور معدنی وسائل کی لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہے زراعت اور پینے کیلئے پانی نہیں دیا جاتا۔ منگلا ڈیم ہمارے لوگوں کو تباہ کر کے تعمیر کیا گیا اور آج ہمارے لوگ بجلی سے محروم ہیں، دادی نیلم میں قیمتی روبی پہاڑ اونے پونے داموں نیلام کردیا گیا۔ ہمارے جنگلات دن بدن کم ہو رہے ہیں اور ایک منظم گروہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی میں مصروف ہے اس وجہ سے ہمارا علاقہ قدرتی آفات کی زد میں ہے آئینی معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی قائد نے کہا کہ ہمارے علاقے میں ایک طرف سے سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد ہیں ہمیں ملازمت لینے کیلئے الیکشن لڑنے کیلئے بھی پاکستان سے وفاداری کا حلف اُٹھانا پڑتا ہے۔
تجارت اور بس سروس پر سرادار شوکت علی کشمیری نے کہا یہ اچھے اقدامات ہیں لیکن مذید اقدامات کی ضرورت ہے۔ مظفرآباد اور پونچھ میں منڈیاں قائم کہ جا ئیں تاکہ ریاستی عوام ان اقدامات سے مستفید ہو سکیں اور لوگوں کو سرٹیفیکیٹ باشندہ ریاست کی بنیاد پر ایک دوسرے سے ملنے دیا جائے اور بیوروکرپٹ رکاوٹوں کو دور کیا جائے ثقافتی تبادلوں کو فروغ دیا جائے اور ریاست کے تیسرے حصے یعنی گلگت بلتستان اور سکردو اور لداخ کے درمیان تجارت اور بس سروس شروع کی جائے تاکہ اس حصے کے عوام کو بھی ان کے تاریخی ثقافتی اور باہمی رشتے بحال کرنے میں مدد ملے اور جرمنی اس سلسلے میں اہم کردار آدا کرسکتا ہے ہم چھوٹے چھوٹے لیکن عملی اقدامات کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
دہشتگری کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وفد نے بتایا کہ پاکستان کے زیرانتظام دونوں علاقے ریاست ہونے کی کسی تعریف پر پورا نہیں اُترتے بلکہ یہ سیکورٹی زون ہیں جہاں دہشتگردی کے کیمپ موجود ہیں غیر ملکیوں کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں۔کئی لوگوں کو خفیہ ادارے گرفتار کر چکے ہیں جو ماضی میں لوگوں کو بنیادی حقوق اور ضرورتوں سے محروم رکھ کر پاکستان کے خفیہ ادارے قریبی ممالک میں دہشتگردی کے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں افغانستان اور سری نگر ان کا اہم ہدف ہیں لہذا ہم کہتے ہیں ان علاقوں سے پاکستان کا ٰغیر قانونی تسلط ختم ہونا چاہیے اس موقع پر بات چیت میں حصہ لیتے ہیں عثمان کیانی، ناصر عزیز اور جمیل مقصود نے کہا کہ پاکستان اپنے افسران کے ذریعے علاقے کو کنٹرول کرتا ہے اور مقامی انتظامیہ محض دکھاوے کیلئے قائم ہے اور بیرونی ملک سفارتخانے ان ملکوں میں مقیم پاکستانیوں اور کچھ کشمیریوں کو ا محض اپنے محصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ چین اور سعودی عرب بھی پاکستان کی کمزوری معاشی صورتحال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے عالمی ایجنڈے کے طور پر پاکستان کو استعمال کرتے ہیں یہ پالسیاں ختم ہونی چاہئے
زاہد محمو د ﴿میڈیا سیکرٹری﴾
یوکے پی این پی، یورپ زون
Add this page to your favorite Social Bookmarking websites














